روز آخرت
قسم کلام: اسم معرفہ
معنی
١ - قیامت کا دن۔ "صُحْفِ دیگر اور ملائکہ اور روزِ آخرت اور تقدیرِ الٰہی . پر ایمان لانے کا حکم ہے۔" ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ١٠:١ )
اشتقاق
فارسی اسم 'روز' کو کسرۂ اضافت کے ذریعے عربی سے مشتق اسم 'آخرت' کے ساتھ ملا کر مرکب اضافی بنایا گیا ہے۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٩٠٦ء میں "الحقوق و الفرائض" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - قیامت کا دن۔ "صُحْفِ دیگر اور ملائکہ اور روزِ آخرت اور تقدیرِ الٰہی . پر ایمان لانے کا حکم ہے۔" ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ١٠:١ )
جنس: مذکر